ضدی بلا کا تھا وہ، شکایت اُسے بھی تھی
اپنے کیے پہ کچھ تو ندامت اُسے بھی تھیخود سے جو لکھتے رہتے تھے اوروں کی قسمتیں
ایسے ہی منصفوں سے عداوت اُسے بھی تھیکیا کیا نہ خواب اُس نے دکھائے تھے شام کو
تازہ محبتوں کی ضرورت اُسے بھی تھیٹوٹا جو اعتبار کا شیشہ، نہ پوچھیے
سارے جہاں سے پھر تو بغاوت اُسے بھی تھیاب ہو گئی تھی اُس کی طبیعت بھی بے سکون
“میری طرح کسی سے محبت اُسے بھی تھی”کتنا عجیب ہے کہ تنہا ہی رہ گیا
سارے جہاں سے جبکہ رقابت اُسے بھی تھی

٭نذرِ محسن نقوی

محمد بلال اعظم

Share: