یوں تو وہ ساتھ ساتھ ہے میرے
دل سے لیکن جدا جدا بھی ہے
 
دیوتاؤں سا کر و فر اُس میں
پر اداسی سے ڈر گیا بھی ہے
 
دل کے تاروں کو چھیڑ کر دیکھو
کچھ تو سناٹے نے کہا بھی ہے
 
جو بظاہر تو کچھ نہیں لگتا
میرے بارے میں سوچتا بھی ہے
 
اُس کی باتوں میں تازگی ہے مگر
اُس کا لہجہ تھکا تھکا بھی ہے
 
یوں تو صدیوں کی پیاس ہے لیکن
لبِ تشنہ میں ذائقہ بھی ہے
 
اِن اندھیروں سے پوچھ کر دیکھو
اِن اندھیروں میں راستہ بھی ہے
 
آسمانِ ہنر سے لوٹ آیا
میرا دل میری مانتا بھی ہے
 
جو بھی ہو، دل تجھی پہ مرتا ہے
جبکہ تجھ کو یہ جانتا بھی ہے
 
یہ مرا دل سدا کا خوش قسمت
مالکِ کُل یہاں رہا بھی ہے
 
ہفت افلاک کو کیا تسخیر
دل پرندہ گو پَر کٹا بھی ہے

محمد بلال اعظم

Share: