چاند نکلے کہ نہ نکلے جاناں
درد کی رات گزر جائے گی
ٹیس ابھرے کہ نہ ابھرے دل میں
یہ مری آنکھ تو بھر جائے گیاے مری جانِ تمنا، ترے بعد
سہہ بھی جاؤں جو ملامت کا عذاب
مگر اک بات سے ڈر لگتا ہے
میرے اجڑے ہوئے خوابوں کی کبھی
کوئی تعبیر نظر آئے گی؟
یا سسکتے ہوئے لمحوں کا کرب
میری آنکھوں میں اتر کر کسی شب
عکسِ جاناں کے حسیں لمحے کو
یادِ ماضی میں بدل ڈالے گا
اور پھر یہ مرا بے جان سا جسم
قرض کی طرح گزارے گا حیات
دوست آئیں گے دلاسا دینے
اپنے الفاظ کے مرہم لے کرمیں کہ اجڑا ہوا شہزادہ ہوں
میری تسکیں کو پری اترے گی
یا کہ پھر چاک لبادہ اوڑھے
اک مسیحائے نفس آئے گا
لیکن اِن سب سے مجھے کیا حاصل!
کون دے گا مجھے پُرسہ جاناں
کس نے سمجھا مجھے اپنا جاناںاگر اِس میں بھی رضا ہے تیری
تب تو اے جانِ جہاں یوں ہی سہی
میری منزل ہے محبت تیری
چاہے جیسے بھی ہو، جس حال میں ہو
یوں نہیں تو چلو پھر یوں ہی سہی

محمد بلال اعظم

Share: