یہ دھوپ چھاؤں سی گردش جو روزگار میں ہے
بہت کٹھن ہے مگر میرے اختیار میں ہےاصیلِ حُسن کو صیقل نہ کر سکا میں کبھی
پہ کیا کروں کہ وہ بھی چشمِ اشکبار میں ہےنیامِ شوق سے تسخیرِ کائنات ہوئی
یہاں جو بھی ہے، کسی نور کے مدار میں ہےبرائے ردِ جنوں تُو مجھے بھی رد کر دے
کہ میری اصل فقط تیرے اعتذار میں ہےتمام شب میں نبرد آزما رہا خود سے
کہ جیسے کوئی کمی میرے اختصار میں ہے

محمد بلال اعظم

Share: