یزیدِ وقت نے جب بھی فجورِ عام کیا
میانِ بزم سجا دی ہے کربلا ہم نےتمام عمر کی پونجی لٹا کے آئے ہیں
مگر حسین! ترا غم بچا لیا ہم نےتمام شہر کے رستے دھواں دھواں تھے مگر
جلا رکھا تھا ترے نام کا دیا ہم نےفرودِ زیست کی الجھی ہوئی کہانی تھی
سو اس کہانی کو بے عنواں ہی رکھا ہم نےدرودِ پاک کی کلیاں پلک پلک پہ لئے
درِ حضورﷺ پہ مانگی ہے ہر دعا ہم نےوہ ایک شعر جو تجھ کو سنا نہیں پائے
برنگِ آب، بدوشِ ہوا لکھا ہم نے

محمد بلال اعظم

Share: