وہ جس کی آنکھیں روشن تھیں، وہ جس کا چہرہ سندر تھا
اُسے چھونے سے میں ڈرتا تھا، وہ کانچ کا نازک پیکر تھا
 
سب دیکھنے والے دیکھتے تھے، وہ منظر ایسا منظر تھا
مرا دشمن مرہم لایا تھا، مرے دوست کے ہاتھ میں خنجر تھا
 
میں دھوپ بھی ہوں اور چھاؤں بھی، میں صحرا بھی، میں ساگر بھی
اک منظر میرے اندر تھا، اک منظر میرے باہر تھا
 
پھر آنکھیں رکھے بیٹھا ہے، ترے وصل کے کچے رستے پر
مجبور ہے دل کے ہاتھوں ورنہ، وہ شخص تو صاحبِ منبر تھا
 
بس اتنا سا تو قصہ ہے مرے ٹوٹنے اور بکھرنے کا
میں ذات میں جیسے شیشہ تھا اور اُس کے ہاتھ میں پتھر تھا
 
دنیا میں الجھ کر میں نے بلالؔ، یہ قیس قبیلہ چھوڑ دیا
اور اب جا کے احساس ہوا، میں تو بد قسمت شاعر تھا

محمد بلال اعظم

Share: