واقعہ ہے کہ مر گیا ہوں میں
دکھ تو یہ ہے کہ حادثہ نہیں ہےمسئلہ ہے کہ سوچتا ہوں بہت
سوچتا ہوں کہ مسئلہ نہیں ہےآپ نے زندگی گزاری ہے
آپ نے سوچا، کیا خدا نہیں ہےحبس دل میں اداس موسم کا
اور نکلنے کا راستہ نہیں ہےتیرا کوئی ترے علاوہ نہیں
یعنی تیرا بھی سلسلہ نہیں ہےزندگی دائرہ بنی ہے مگر
زندگی تیرا دائرہ نہیں ہےکئی آوازیں میرے اندر ہیں
اور باہر بھی تخلیہ نہیں ہےبادشاہ تُو، فقیر میں ہوں، آ
مجھ میں خوفِ مکالمہ نہیں ہےمیرا رشتہ ازل سے ہے خدا سے
اِس سے بڑھ کر تو سلسلہ نہیں ہےموجِ خوں سے الجھ گیا تھا بلالؔ
جانتا تھا کہ راستہ نہیں ہے

محمد بلال اعظم

Share: