وقتِ موہوم سے معلوم نیا کیا کرنا
عرصۂ خواب کی ساعت ہے، بتا کیا کرناایک دھاگے میں پرویا ہے خدا نے عالم
اِس کے ریشوں کو جدا، اور جدا کیا کرنامیرے رستے میں یہ رستے، وہ سفر بے معنی
دوش بر اوجِ زماں ہوں، سو چلا کیا کرنامیں جو لکھوں گا تو یکجائی پہ حرف آئے گا
مرتعش طیف ہے وہ، اُس پہ لکھا کیا کرنااِس کے ہونے میں ہی پنہائی نہاں ہے میری
یہ زماں ہے، وہ مکاں ہے، سو خلا کیا کرنااوجِ امکاں سے پرے، سارے جہانوں سے اُدھر
ایک عالم ہے، ہمیں اُس کا پتا کیا کرنااب ترا نام بھی لوں گا تو اذیت ہو گی
اب ترا اسمِ ثنا، رنگِ حنا کیا کرناجس کے ہونے کا تیقّن ہے نہ ہونے جتنا
اُس حسیں خواب کو آنکھوں سے جدا کیا کرنااب کہ وہ ساعتِ امکاں ہے نہ تجدیدِ خیال
پھر یوں آنکھوں سے سخن، دل سے دعا کیا کرناجس سے ٹھہرے ہوئی ماضی کا تعلق ہے بلالؔ
اُس پہ ہر بار نئی نظم کہا کیا کرنا

محمد بلال اعظم

Share: