اک بات پرانی ہے
جو تم کو سنانی ہے
دنیا سے چهپانی ہے
خلوت میں بتانی ہےاک بار ملو ہم سے
کچھ بات کرو ہم سے
شاید کہ جهجک اترے
شاید کہ کلی چٹکے
اک بار کهلو ہم پر
پهر پهول کهلے کوئی
وہ پهول ہو چاہت کاپهر تم کو بتائیں ہم
جو دل میں چهپایا ہے
راتوں کو نمازوں میں
ہر اشک بہایا ہے
پر داغِ ندامت سے
اِس دل کو بچایا ہےہر اشک یہ کہتا ہے
تم اپنی رفاقت کا
اعزاز مجهے بخشو
انجام ہو جو بھی پر
آغاز مجھے بخشو
پُر سوز سا دل ہوں میں
تم ساز مجھے بخشومیں تم سے یہ کہتا ہوں
اس عمرِ رواں کے میں
جو پل بھی گزاروں گا
اس عمرِ رواں کے میں
ہر صفحے پہ لکهوں گا
اس عمر رواں کا ہی 
عنوان ہو تم جاناں
عنوان ہو تم جاناں

محمد بلال اعظم

Share: