تیری خوشبو کو بھی زنجیر نہیں کر سکتا
تیرا شاعر تری تعبیر نہیں کر سکتامیری قسمت میں لکھا ہے شبِ وعدہ کی طرح
ایک لمحہ، جسے تعبیر نہیں کر سکتامیری آنکھوں میں مرے خواب ہیں باقی جب تک
میرا دشمن مجھے تسخیر نہیں کر سکتااس سے بڑھ کر تو نہیں کوئی قیامت مجھ پر
کہ ترا عکس میں تصویر نہیں کر سکتااپنی ہی آگ میں جلنا تو ہے منظور مجھے
مگر اِس عشق کی تشہیر نہیں کر سکتا

محمد بلال اعظم

Share: