میں نے بھی سوچ لیا تھا، نہیں ملنا اُس سے*
“دل مگر اُس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی”جب بھی چاہا تجھے الفاظ سے تعبیر کروں
میرے لفظوں نے معانی سے بغاوت کر دیچھٹ گئے یار بھی، اغیار بھی ناراض ہوئے
تیری چاہت نے یہ کیسی مری قسمت کر دیتُو نے ہر روز نیا زخم دیا ہے ہم کو
ہم نے ہر روز بیاں تازہ حکایت کر دیاب غمِ ہجر بھی امرت کی طرح پیتا ہوں
تیری چاہت نے تو جینا میری عادت کر دی

اپنے پیکر کو سجایا کئی زخموں سے بلالؔ
اس طرح ہم نے ادا رسمِ محبت کر دی

٭نذرِ احمد ندیم قاسمی

محمد بلال اعظم

Share: