سوکھا ہوا جنگل ہوں، مجھے آگ لگا دو
اور پھر کسی دریا میں مری راکھ بہا دومصلوب کرو، سنگِ ملامت مجھے مارو
لوگو! مجھے اِس عہد کا منصور بنا دواِس بار میں آیا ہوں چراغوں کو بجھا کر
اِس بار مجھے اپنی نگاہوں کی ضیا دو

محمد بلال اعظم

Share: