شبِ ظلمت کو نئی راہ دکھاتے ہوئے آئے
میرے احباب چراغوں کو بجھاتے ہوئے آئےگرچہ تنہائی کے بینائی پہ پہرے تھے پہ ہم
اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجاتے ہوئے آئےزخم ہی زخم دیے تیغِ جگردار نے پر
ہم کو آنا تھا، سو ہم جان لٹاتے ہوئے آئےیوں تو عشاق زمانے سے الگ رہتے ہیں
گرد اڑاتے ہوئے ہم جشن مناتے ہوئے آئےصرف اس بات پہ پابندِ سلاسل ہوئے ہم
آئنہ اہلِ سیاست کو دکھاتے ہوئے آئےعزم پختہ تھا، سو ہم خاک بسر لوگ بلالؔ
ہفت افلاک پہ بھی نقش بناتے ہوئے آئے

محمد بلال اعظم

Share: