اس دل کی بند کتابوں میں، کوئی شخص تمہارے بعد نہیں
میرے خوابوں پہ جو قابض ہو، ایسا تو کوئی صیّاد نہیںاُس شخص پہ لکھنے بیٹھا جب اک پل میں صدیاں بیت گئیں
کب دن ڈوبا اور رات ڈھلی، کچھ ہوش نہیں، کچھ یاد نہیںتیرا رستہ تکتے تکتے یہ آنکھیں بھی ویران ہوئیں
تری یاد کی سندر مورت بھی اب اس دل میں آباد نہیںتھا ایک زمانہ اجلا سا، جب لوگ بھی سارے سچے تھے
اب بات ہے دنیا داری کی، کوئی قیس نہیں، فرہاد نہیں

محمد بلال اعظم

Share: