روز ملنے سے تجھے، دل کو سکوں ملتا ہے
ورنہ اب کون کسی کو یہاں یوں ملتا ہےبعض اوقات تو جینا ہے قیامت کی طرح
بعض اوقات تو مرنے میں سکوں ملتا ہےاپنی تسخیر کی خواہش میں جو نکلوں میں کبھی
ایک درویش سرِ دشتِ جنوں ملتا ہےمیں ہوں اُس پیکرِ خوشبو کی ثنا میں مصروف
جو دروں ملتا ہے مجھ کو نہ بروں ملتا ہےدوست پھر دوست، میں دشمن کو کہا کرتا ہوں
دل نہ ملنے پہ ہے راضی تو کیوں ملتا ہے

محمد بلال اعظم

Share: