راز ہوں راز ہی رہنا ہے مجھے
کیوں کسی پر میں عیاں ہو جاؤںاپنی ہستی کو چھپانے کے لئے
رقص کرتے ہی دھواں ہو جاؤںاپنی سچائی کی عظمت کے لئے
میں سرِ نوکِ سناں ہو جاؤںچاہنے والوں نے چاہا ہے کہ میں
قصۂ سود و زیاں ہو جاؤںاب وہ عالم ہے کہ میں سوچتا ہوں
کیوں نہ دنیا سے نہاں ہو جاؤںاس زمانے سے میں مایوس ہوں، سو
اپنی جانب نگراں ہو جاؤںتیرے قصے کی طوالت کے لئے
میں حدیثِ دگراں ہو جاؤںاپنے ہونے سے کروں صرفِ نظر
اب یہ خواہش ہے، گماں ہو جاؤںتیری قربت ہو میسر مجھ کو
میں ترا نغمۂ جاں ہو جاؤںحرمتِ حرف تری خاطر میں
آج بھی خوابِ گراں ہو جاؤںوہ مجھے تحریر میں لایا نہ بلالؔ
سو میں ہی حرفِ بیاں ہو جاؤں

محمد بلال اعظم

Share: