قریۂ نور نگاہوں میں بسا کر آئے
ہم ترے(ﷺ) شوق کی دولت کو سوا کر آئے
 
فیصلہ جو بھی ہو، ہم تیرے(ﷺ) غلاموں کے غلام
مطمئن ہیں کہ ترے(ﷺ) در پہ دعا کر آئے
 
شاید اک بار ہمیں اذن ملے جانے کا
سو ہواؤں کے سپرد اپنی صدا کر آئے
 
خاکروبی ترے(ﷺ) در کی ہے ہمارا حاصل
ہم یہ تحریر سرِ لوحِ وفا کر آئے
 
بادشاہی کی تمنا ہی نہیں، جب سے بلالؔ
ان(ﷺ) کے انوار کی بارش میں نہا کر آئے

محمد بلال اعظم

Share: