پھر شوقِ محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا
اک پل کی حماقت نے کہیں کا نہیں چھوڑاجو حلقۂ عشاق میں پہچان بنی تھی
اس شعر کی دولت نے کہیں کا نہیں چھوڑاہاں شوقِ قدم بوسی روایت ہے ہماری
اس زندہ روایت نے کہیں کا نہیں چھوڑااوروں سے ہو کیسے گلہ، جب شہرِ ضیا* کو
اپنوں کی سیاست نے کہیں کا نہیں چھوڑاپہلے تو فقط دن کے فسانے تھے مگر اب
راتوں کی ریاضت نے کہیں کا نہیں چھوڑاایمان کی امانت بھی تو سنبھلی نہیں ہم سے
اس میں بھی خیانت نے کہیں کا نہیں چھوڑا

٭روشنیوں کا شہر کراچی

محمد بلال اعظم

Share: