پھر شام ہوئی اور ڈرانے مجھے آئے
مدھم سی شفق اور یہ ڈھلتے ہوئے سائےتم چاند کی کرنوں کو سنبھالے ہوئے رکھو
وہ نور کی صورت سرِ محرابِ دعا آئےڈھائے ہیں کئی گھر بھی سرِ ساحل مگر اے دل
اِن تیز ہواؤں نے کئی نقش بنائےلفظوں کا اجالا ہے جو تم دیکھ رہے ہو
خوشبو سی سماعت ہے، تمہیں کون بتائےاک حبس کا عالم ہے سرِ صفحۂ آفاق
اور سیلِ جنوں موتی تہِ آب لٹائےاک درد کے رشتے میں پروئے ہوئے دونوں
اور روح کی آواز کہ میلہ سا لگائےاحساسِ تمنا بھی تو باقی نہیں ورنہ
زندانیِ شب نے تو کئی حشر جگائے“یہ ابر کا ٹکڑا تو گریزاں رہا مجھ سے”
جس ابر کی خاطر میں نے گھر بار لٹائے

محمد بلال اعظم

Share: