اونچا ہے مرا سر کہ میں مقتل میں کھڑا ہوں
سچ بول کے احساس کے سینے میں چبھا ہوںاک پل کی تو مہلت مجھے دے دے غمِ دنیا
میں جامِ وفا پی کے عجب مست ہوا ہوںآنکھوں میں دہکتے ہوئے خوابوں کی قسم ہے
سو بار میں اپنی ہی تمنا میں جلا ہوں

جس شہر کے سب لوگ ہیں کردار سے عاری
اُس شہر کی اجڑی ہوئی مایوس فضا ہوںاتنا تو کم از کم شبِ ہجراں کا صلا دے
بس ایک نظر دیکھ، ترا بندِ قبا ہوںاحساسِ مآلِ غمِ دل ہو بھی تو پھر کیا
اک عمر گزاری ہے، جلا ہوں نہ بجھا ہوںاب ہجر کی راتیں بھی حسیں ہیں مرے دم سے
میں ہجر کی راتوں میں نگینے سا جڑا ہوںیہ مان چکا تُو مرا کچھ بھی نہیں لیکن
پاگل سا میں ابھی تری چوکھٹ پہ پڑا ہوںجو بھی ہو خطائے دلِ ناداں، نہیں معلوم
بس اتنا ہے معلوم کہ میں تجھ پہ فدا ہوںمیں کس کو بتاؤں، جو حالت ہے مرے دل کی
خوش ہوں میں بظاہر، پہ بہت ٹوٹا ہوا ہوںکچھ شک نہیں اِس میں کہ مَیں دنیائے سخن میں
اقبالؔ کا پیرو ہوں تو غالبؔ پہ فدا ہوں

محمد بلال اعظم

Share: