مجھے بخش دے، مری لاج رکھ، مجھے ایسا کوئی کمال دے
میں اندھیروں میں جو قدم رکھوں، مری زندگی کو اجال دےمجھے رتجگوں کی سزا نہ دے، مجھے شمعِ راہِ وفا نہ کر
میں ترے کرم پہ ہوں منحصر، مجھے ہجر دے کہ وصال دےمجھے خواہشوں نے تھپک دیا، میں صحیح رہ سے بھٹک گیا
مرے حال پر تُو کرم یہ کر، رہِ مستقیم پہ ڈال دےمیں گھِرا ہوں، نہیں مفر، یہ گناہ کے ہیں عجیب بھنور
تُو ہی صرف ہے مرا چارہ گر، مری کشتیوں کو اچھال دےانہیں ہر طرف سے جکڑ لیا، نئے دشمنوں کے حصار نے
مرے دوستوں کو عروج دے، مرے دشمنوں کو زوال دے

محمد بلال اعظم

Share: