مجھ کو امکان کی سرحد سے پرے جانا تھا
سو میں امکان سے پیچھے کو سرکتا کیسے
 
وہ جو خود اپنے تصور سے گریزاں تھا، وہ شخص
نقطۂ وقت کی گردش پہ تھرکتا کیسے
 
فکرِ فردا میں ہی گزرے مرے لمحاتِ نشاط
سو میں امروز کو ماضی میں پلٹتا کیسے
 
قد و قامت میں کمی تھی نہ تھی رفتار بلند
سو میں اُس ثقل کے کھینچے پہ سمٹتا کیسے
 
وقت بھی راہ کی دیوار کی صورت آیا
سو مرا نقش ترے چاک پہ بنتا کیسے
 
آگ ہی آگ تھا میں، خود میں بھڑکتی ہوئی آگ
مگر اُس نور کے آگے میں بھڑکتا کیسے
 
اک یہ اسرارِ جنوں خیز کھلے، پھر دیکھو
حیزِ امکان سے آگے میں نکلتا کیسے!

محمد بلال اعظم

Share: