(یہ مضمون وکیپیڈیا اردو کے لئے براہِ راست وکیپیڈیا انگریزی سے ترجمہ کیا گیا۔ تاہم کچھ نا گزیر وجوہات کی وجہ سے اسے وکیپیڈیا پہ ابھی تک اپلوڈ نہیں کیا جا سکا۔)

محمد احسان اللہ خان 9 فروری 1947ء کو گوادر بلوچستان میں پیدا ہوئے۔ آپ بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ پاکستان کے بانی ہیں۔ اس تنظیم نے پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد غلام مزدوروں کو رہائی دلوائی۔ احسان اللہ خان نے بھٹہ مزدوروں کے حقوق کے لئے برک کِلن ورکرز فرنٹ کی بنیاد رکھی اور بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ (گلوبل) بھی قائم کی۔ یہ تنظیمیں پاکستان اور جنوبی ایشیاء میں بندھوا مزدور پہ ہونے والے مظالم اور مزدور بچوں کے ساتھ برتے گئے غلامانہ  رویے کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں۔ آپ سویڈن میں گلوبل مارچ کے نیشنل کوآرڈینیٹر بھی رہے۔

احسان اللہ خان کے زریں کارناموں میں سے ایک، 1992 میں اقبال مسیح کی رہائی تھی۔ معاشی حالات کے باعث اقبال مسیح کو کئی سالوں تک روزانہ چودہ چودہ گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا۔ یہی اقبال مسیح اپنے جیسے ہزاروں بچوں کی رہائی کا پروانہ ثابت ہوا مگر 16 اپریل 1995ء کو اندھی گولی کا شکار ہوا۔ مگر کوئی بھی منفی قدم احسان اللہ خان کو اپنے اردوں سے باز نہ رکھ سکا۔ خان نے انکشاف کیا کہ دنیا میں ہر سال لاکھوں بچے بڑی کارپوریشنز کے لئے سود مند ہونے کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔ انہیں کام کرنے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔

تصویر 1: احسان اللہ خان اسپین میں (بشکریہ وکیپیڈیا انگریزی)۔

آپ نے غلامی کی جدید صورت کے خلاف جدو جہد کرنے والی تنظیم کے ذریعےمزدوروں پہ کئے جانے والے مظالم کے خلاف اپنی آواز اقوامِ متحدہ اور انٹرنینشل لیبر آرگنائزیشن میں بھی بلند کی۔ بین الاقوامی سطح پر آپ کے کام کو بے پناہ شہرت اور حمایت میسر آئی۔ احسان اللہ خان کو کئی بین الاقوامی کانفرنسز میں خطاب کرنے کا موقع اور اور کئی مصنفین نے اپنی کُتب کے ذریعے بھی آپ کی حمایت کی۔ آپ نے اقبال مسیح کی زندگی پر بننے والی فلم میں بھی معاونت کی۔ بوسٹن  میں ریبوک انٹرنیشنل ایوارڈ کے لئے اقبال مسیح کی نامزدگی میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔

سرگزشت

احسان اللہ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ہی آپ نے بھٹہ مزدوروں کو غلامی کے خلاف جدوجہد کے لئے منظم کیا۔ بابا کالا سے ملاقات کے بعد آپ اِس خوفناک چشم کشا حقیقت کے کئی نہاں پہلوؤں سے واقف ہوئے۔ بابا کالا کی بیٹی کو قرضہ کی ماہانہ قسط ادا نہ کرنے کے باعث بھٹہ مالک نے اغوا کروا لیا تھا۔

بھٹہ مزدور محاذ کا قیام

ستمبر 1967ء میں احسان اللہ نے بھٹہ مزدور محاذ قائم کیا۔ اِس تنظیم نے نہ صرف احتجاج اور جلسے جلوسوں کے ذریعے بندھوا مزدوری کے خلاف کام کیا بلکہ جنوبی ایشیا میں پہلی بار بھٹہ مزدوروں کو قانونی مدد بھی فراہم کی۔ بندھوا مزدوری کی وبا صرف بھٹہ پہ ہی نہیں بلکہ زراعت، قالین بافی اور کان کنی میں بھی عام تھی۔

سن 1987ء  میں اِس تنظیم نے کچھ مزدوروں کو تحریک دی کہ وہ اپنا کیس سپریم کورٹ پاکستان میں دائر کریں۔ یہ احسان اللہ خان اور بھٹہ مزدور محاذ کی ایک بڑی کامیابی تھی کہ 1988ء میں حکومتِ پاکستان نے پیشگی (ڈیبٹ بانڈیج سسٹم: ایسا نظام جس میں قرض ادا نہ کرنے کے باعث قرض دہندہ کو جبری مزدوری پہ مجبور کیا جاتا ہے) کو غیر قانونی قرار دیا اور اِس کے خلاف قانون منظور کر لیا۔

اقبال مسیح کی رہائی

بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ نے اقبال مسیح سمیت چالیس ہزار بچوں کو غلامانہ مزدوری کے طوق سے نجات دلوائی۔ یہ احسان اللہ خان ہی تھے جنہوں نے بچوں پہ ہونے والے اِس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور بیس سال تک جدوجہد کرنے کے بعد آپ کی محنت رنگ لائی۔ احسان اللہ غیر متشدد رویہ کو سب سے بہتر خیال کرتے ہیں۔ آپ نے معاشرے کی ترقی میں بچوں کے کردار پہ خصوصی اہمیت دی ہے۔ آپ اکثر کہا کرتے ہیں “وہ بچے جنہیں بنیادی تعلیم دی جائے اور اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے تو مستقبل کے لئے امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ خود غلامانہ روش کے خاتمے کا باعث ہوں گے”۔

ایامِ اسیری

بطور صحافی، آپ کو بارہا انسانی حقوق اور صحافتی آزادی کی حمایت میں آواز بلند کرنے کے سلسلے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران 1982ء میں آپ کو چھ ماہ کے لئے قید کیا گیا اور اس دوران قیدِ تنہائی سمیت شاہی قلعہ لاہور کے بدنامِ زمانہ عقوبت خانہ میں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔ اپنے ایک مضمون میں انہوں نے لاہور میں حکومت کے تحت کام کرنے والی ایک لیبارٹری میں کچھ خطرناک جرثوموں کی جینیاتی افزائش کا ذکر کیا۔ اِس کی پاداش میں آپ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور آپ کو ایک کان میں ثقلِ سماعت کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ ایک اور مضمون میں آپ نے ایک خفیہ تحقیقی پراجیکٹ میں بطور تجربہ گنی پگز کی بجائے  بندھوا مزدوروں کے استعمال اور ہلاکت پہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ آپ کے اس قدم کو بغاوت کے زمرہ میں شمار کیا گیا۔

دسمبر 1994ء میں اقبال مسیح کو بوسٹن، میساچوسٹس میں ریبوک انٹرنیشنل ایوارڈ دیا گیا۔ اس سفر میں احسان اللہ اقبال میسح کے ہمراہ تھے۔ آپ نے وہاں براڈ میڈو مڈل ہائی اسکول کَوِنسی کا دورہ بھی کیا۔ اسی اسکول کے طلباء نے اقبال مسیح کے قتل کے بعد بچوں کی تعلیم کے لئے ایک اسکول قائم کرنے کی غرض سے چندہ مہم کا آغاز کیا۔ یہ اسکول فروری 1997ء میں پاکستان میں قائم کیا گیا اور اس کی تعمیر میں امریکہ کی 50 ریاستوں کے دس ہزار سے زائد بچوں نے مالی معاونت کی۔ آپ نے ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں اتحاد و یگانگت کے فروغ کے لئے کام کرنے والی تنظیم ESPAL کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔

جلا وطنی

سولہ اپریل 1995ء کو اقبال مسیح کے قتل کے بعد سے احسان اللہ خان کو یورپ میں جلا وطن ہونا پڑا۔ وہیں آپ نے 1996ء میں بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ (گلوبل) کا قیام کیا۔ یہ تنظیم تمام دنیا میں بچوں کے حقوق کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ تاہم احسان اللہ خان کی پہلی ترجیح پاکستان واپس آ کر کام کرنا ہے۔ آپ ہر سال پاکستانی سفارت خانہ کو ویزا کے لئے درخواست جمع کرواتے ہیں اور وہ ہر سال نا منظور کر دی جاتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے 28 نومبر 2001ء کو آپ کے خلاف دائر کئے جانے والے بغاوت کے کیس کو کالعدم قرار دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ کیس غیر قانونی ہے اور لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ عدالتی حکم کے باوجود حکومتِ پاکستان نے آپ کو تا حال وطن واپسی کی اجازت نہیں دی۔

نوبل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی نے 7 مئی 2015ء کو احسان اللہ خان کے بارے میں کہا:

”اقبال مسیح ایک شہید تھا مگر احسان اللہ کے کردار کو بھی نہیں بھولا جا سکتا تھا۔ بچوں کے حقوق کے سلسلے میں جتنا نقصان اور اذیت احسان نے برداشت کی، وہ کسی کے حصہ میں نہیں آئی۔ احسان اللہ خان وہ واحد شخص ہیں جنہیں بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے پر دیس نکالا دیا گیا۔ انہوں نے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے اپنے خاندان، روزگار، دوست احباب غرضیکہ ہر چیز کی قربانی دی۔ انہیں بارہ دفعہ جیل بھیجا گیا اور بارہا تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومت نے آپ کی تنظیم پہ بچوں کے حقوق کی آڑ میں ملکی جاسوسی کا الزام لگایا اور اس بغاوت کے سرغنہ کی حیثیت سے آپ کے لئے سزائے موت تجویز کی۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے بہت اچھے دوست بنائے ہیں جو میرے لئے میرے خاندان کی طرح ہیں۔ ان میں تاریخ کا دھارا بدلنے والے احسان اللہ خان بھی شامل ہیں۔“

مئی 2014ء میں آپ نے سپین میں بیروزگاری، استحصال اور غلامی کے خلاف سیاسی جماعت SAIn کی جانب سے منعقد کردہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں دنیا کے چار براعظموں سمیت سپین کے طول و عرض سے کم و بیش 220 مقررین نے شرکت کی۔ چار روزہ کانفرنس میں طویل مباحث کے بعد کئی سر حاصل فیصلے کئے گئے۔ بھارت میں ایکتا پرشاد، ارجنٹائن میں فاؤنڈیشن لا اایلمیڈا اور پاکستان میں بانڈڈ لیبر لیبریشن فرنٹ کا قیام اسی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں۔

اپریل 2016ء میں احسان اللہ خان نے سپین کے کناری جزائر کا دورہ کیا اور کئی اسکولز میں تقاریر کیں۔ سپین میں آپ کے مذکورہ قیام کے دوران آپ کے اعزاز میں متعدد تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ گران کناری کی سوسائٹی آف مئیرز نے آپ کے اعزاز میں  عشائیے کا اہتمام بھی کیا۔ اس دوران آپ نے سین جوان پارک میں واقع یادگارِ اقبال مسیح کا بھی دورہ کیا جہاں  ٹلڈا ہائی اسکول کی جانب سے اقبال مسیح کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے پیش کردہ ایک ڈرامہ بھی ملاحظہ کیا۔

مترجم: محمد بلال اعظم

Share: