تم جب آؤ گی
کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
وہ خواب میرے
آدھے ادھورے
وہی اداسی دل کی
سانجھ سویرے
 
وہی چیزیں ہوں گی میری
کچھ سوکھے پھول بھی
ہوں گے کتابوں میں
کچھ کاغذ جن پہ
بے ربط تحریریں ہوں گی
جو خواب دیکھے تھے
تم نے، میں نے
اُن کی بے نام سی
تعبیریں ہوں گی
 
اُسی انداز میں بکھری ہوں گی
کوٹ، کالر، ٹائی اور فائلیں
ہار، جھمکے، چوڑیاں پائلیں
 
سب کچھ ہو گا
تم ہو گی
میری دنیا ہو گی
بس اک چیز کی کمی ہو گی
اُس وقت میں خود تھا
اب صرف میری یاد ہو گی

محمد بلال اعظم

Share: