میری وحشت کا سبب پوچھو گے
اب نہیں پوچھا تو کب پوچھو گےتم ہو اقلیمِ سخن کے وارث
تم جو پوچھو گے، غضب پوچھو گےپہلے تو جان سے مارو گے مجھے
پھر مرا نام و نسب پوچھو گےتم کہ آسائشِ دنیا میں مگن
عشق میں جینے کا ڈھب پوچھو گےذات کا کرب کسی روز بلالؔ
مار دے گا تمہیں، تب پوچھو گے؟

محمد بلال اعظم

Share: