موت جب ہاتھ مَلا کرتی ہے
زندگی رقص کیا کرتی ہےروز اک حشر بپا ہوتا ہے
روز دیوار اٹھا کرتی ہےشہر میں حشر بپا ہوتا ہے
خلق فریاد کیا کرتی ہےہم سے عشاق کی مٹی اکثر
خاکِ مقتل بھی بنا کرتی ہےمیری آنکھیں اُسے پڑھ لیتی ہیں
ورنہ کم کم وہ کھُلا کرتی ہےمیرے احساس کی دولت پا کر
وہ ہواؤں میں اڑا کرتی ہےاکثر اوقات مرے آنگن میں
چاندنی رات رکا کرتی ہےشہرِ افلاس کے بازاروں میں
روز دستار بکا کرتی ہےتم اندھیروں سے بھی لڑ سکتے ہو
روشنی مجھ سے کہا کرتی ہے

محمد بلال اعظم

Share: