میں ہمہ وقت رہا گم شدہ اپنے جنوں میں
تُو بھی کمزور ارادوں کا خدا تھا کل شب
 
اب تو وہ ساعتِ معلوم بھی معلوم نہیں
میں نے جس وقت تجھے اپنا کہا تھا کل شب
 
جس سے کُل عالمِ امکان پریشان تھا، وہ،
شورِ گریہ مرے اندر سے اٹھا تھا کل شب
 
کس سے اُس پار سے آواز لگائی مجھ کو
کون اسرارِ جہاں کھول رہا تھا کل شب
 
کس نے اِس دشتِ تحیر کو اجالے رکھا
کون اشعار کے پردے میں چھپا تھا کل شب

محمد بلال اعظم

Share: