کچھ ایسی اب کے چلی شہر میں ہوائے ہجر*
پناہ مانگتے ہیں سب ہی مبتلائے ہجرکچھ اِس طرح ہوا آغازِ ابتلائے ہجر
کہ اوڑھ لی ہے ستاروں نے بھی ردائے ہجربحالتِ رہِ گم گرداں، اے مسیحا مرے!
فقیر دے کے گیا تھا مجھے دعائے ہجرکتاب عشق کا ہر حرف زہر لگتا ہے
کہ گونجتی ہے مری روح میں نوائے ہجرمیں ترے عشق کے دریا کو پار کر کے اب
اڑا رہا ہوں فضاؤں میں خاک پائے ہجرترے وصال کی ساری تمازتوں کے بعد،
جلا سکے گا تو آئے مجھے جلائے ہجریہ کون ہجر زدہ ہے جو کہہ رہا ہے بلالؔ
یہ وارداتِ محبت ہے ماورائے ہجر

٭ ٣١ مئی ٢٠١٤ ۔۔۔ ہمارے ایم ایس فزکس پارٹ ١ کے سیشن کا آخری دن تھا۔ اس دن کی مناسبت سے کچھ اشعار

محمد بلال اعظم

Share: