کون جانے تری جدائی میں
راتوں کو تنہا کتنا رویا ہوںہجر کی شب وہ اذیت تھی
پی کے میں جامِ صہبا رویا ہوںدیکھ کے اُس کو جب خوشی سے مَیں
مسکرایا، وہ سمجھا رویا ہوںسارے چشمے بھی خشک ہیں جاناں
یاد میں تیری اتنا رویا ہوںرشتے ناطے یہ کیسے؟ سب جھوٹے
زخمِ جاں یاد آیا، رویا ہوں

محمد بلال اعظم

Share: