کل شب سنا ہواؤں کے تیور بدل گئے
کل شب کسی کی سسکیاں ملبے میں دب گئیںاک پختگی سی آ گئی میرے شعور میں
جب میری باقیات بھی شجرے میں دب گئیںدنیا پرستوں نے جسے تقسیم کر دیا
سب خواہشیں مری اُسی حصّے میں دب گئیںکچھ یوں رواں تھا نیلِ تمنا کہ تیرے بعد
آنکھیں بھی آنسوؤں کے جزیرے میں دب گئیںکل رات مر گیا مرے اندر کا آدمی
اور کرچیاں وجود کی بٹوے میں دب گئیںاس عمرِ بے حساب سے اتنے گلے کئے
سرگوشیاں بھی زیست کی، شکوے میں دب گئیںچہرے پہ سلوٹوں کے نشاں تک نہیں بلالؔ
سانسیں مگر طبیب کے نسخے میں دب گئیں

محمد بلال اعظم

Share: