کبھی زندگی سے ملا چاہتا ہوں
کبھی موت کی میں دعا چاہتا ہوںبچھڑ جا تُو مجھ سے کہ میں تجھ کو اب سے
مری زندگی سے جدا چاہتا ہوںچمن میں ہمیشہ اداسی رہی ہے
یہاں اب خوشی کی فضا چاہتا ہوںرقیبوں کی محفل ہو یا دوستوں کی
یہاں سے تو بس میں اٹھا چاہتا ہوںمحبت کسی سے، تمنا کسی کی
مجھے کوئی بتلائے کیا چاہتا ہوںمجھے نقشِ پا جب سے سمجھا ہے تُو نے
میں ٹکڑوں میں ہر دم بٹا چاہتا ہوں

محمد بلال اعظم

Share: