جو سر سناں پہ سجے، وہ جھکاؤ چاہتے ہیں
یہ کون لوگ سفر میں پڑاؤ چاہتے ہیںیہی ہیں وہ، جنہیں زعمِ شناوری تھا بہت
کنارِ نیل جو پہنچے تو ناؤ چاہتے ہیںیہ پارسا جو طریقت کی بات کرتے ہیں
یہ داغ داغ ہیں، اپنا بچاؤ چاہتے ہیںتکلفات ہوئے ہیں سرشت میں شامل
محبتوں میں بھی ہم رکھ رکھاؤ چاہتے ہیںہمیں خبر ہے کہ ترکش میں تیر کتنے ہیں
ہم اہلِ جذب و جنوں، پھر بھی گھاؤ چاہتے ہیں

محمد بلال اعظم

Share: