جن کے انداز تھے ساون کی گھٹاؤں والے
اب کہاں لوگ وہ مخمور اداؤں والےجن کے لہجے میں سدا پیار بسا کرتا تھا
ان کے تیور بھی ہوئے سرد ہواؤں والےاس نے تعبیر کی خاطر مری آنکھیں لے کر
اُن میں سب رنگ بھرے زرد خلاؤں والےاُس کا ہر دکھ مری قسمت میں لکھا جائے بلالؔ
جس کی خاطر لکھے اشعار دعاؤں والے

محمد بلال اعظم

Share: