جیسے بکھرے ہوئے گیسو
جیسے پھیلے ترا آنچل
جیسے جلتے ہوئے جگنو
جیسے کوئل کی ہو کُو کُو
 
یہی ٹھہری زندگی اپنی
شب و روز کہانی اپنی
اک دنیا دشمنِ جاں ہے
اک دنیا دِوانی اپنی

محمد بلال اعظم

Share: