جان تیری، جہان تیرا ہے
دل کہاں ہے، مکان تیرا ہےفصل سود و زیاں کی میری ہے
فصلِ غم کا لگان تیرا ہےکوئی بھی آسرا نہیں دیتا
کیا زمیں، آسمان تیرا ہےتھے جو مشکل سوال، سب میرے
پیش اب امتحان تیرا ہےہم غریبوں کے آستانے کے
سامنے، آستان تیرا ہےگھر ہو، میخانہ ہو کہ محفل ہو
ہر جگہ ہم کو دھیان تیرا ہےتوڑ دی ہیں قیودِ جسم و جاں
دل کو پھر بھی گمان تیرا ہےمیکدے کو بلالؔ گھر ہی سمجھ
ایک یہ بھی مکان تیرا ہے

محمد بلال اعظم

Share: