جب بھی چاہا، انہیں لے جائے گا
میرے سب خواب امانت اُس کیچاند کے ساتھ سفر کا سن کر
چونک اٹھے گی سماعت اُس کیریزہ ریزہ مری دنیا مٹی
شیشہ شیشہ ہے محبت اُس کیمفلسی وجہ بنی ہے ورنہ
اتنی ارزاں نہ تھی قیمت اُس کیخود کو ہارا تو یہ جانا میں نے
جیت جانا تو تھی عادت اُس کیوسعتِ ریگِ رواں قدموں میں
یہ عنایت ہے کہ نعمت اُس کیشب فرقت کے اندھیروں میں بلالؔ
میں نے مانگی ہے رفاقت اُس کی

محمد بلال اعظم

Share: