تُو(ﷺ) نے اغیار کو اپنوں کے برابر سمجھا
یہ ہے آغاز تو انجام سے آگے کیا ہے!اک ترے(ﷺ) نام سے ذروں کے جگر چیرے ہیں
اِس زمانے میں ترے(ﷺ) نام سے آگے کیا ہے!دین اتمام ہوا، رشد و ہدایت بانٹی
لوگ کہتے تھے اِس اتمام سے آگے کیا ہے!ذرے کو اپنی تجلی سے کیا ہے بَرّاق
ورنہ ہم کہتے تھے اجرام سے آگے کیا ہے!یہ عنایت ہے کہ ہونٹوں سے لگے نعت کا جام
مجھ کو بتلاؤ اِس انعام سے آگے کیا ہے!تیری(ﷺ) رحمت نے خریدا ہمیں، بے مول بکے
اور آئی یہ ندا، دام سے آگے کیا ہے!جو مدینے کے تصور میں گزارے ہیں بلالؔ
دل یہ کہتا ہے اُن ایام سے آگے کیا ہے!

محمد بلال اعظم

Share: