اس بار سمندر کا کنارہ بھی نہیں تھا
اور مجھ کو پلٹ جانے کا یارا بھی نہیں تھاکیوں آج مرے حق میں وہ دیتا ہے گواہی
اُس نے تو کبھی مجھ کو پکارا بھی نہیں تھاجس رات جدا ہو کے نئی سمت چلے تھے
اُس رات فلک پر کوئی تارا بھی نہیں تھاجو شب کی ریاضت میں تجھے مانگ رہا ہے
خود سر تھا وہ اتنا، کبھی ہارا بھی نہیں تھا

محمد بلال اعظم

Share: