ان جاگتی آنکھوں نے دیکھا، اک خواب سنہرے موسم کا
قرطاسِ محبت پر لکھا پھر باب سنہرے موسم کاٹوٹی چھت، خستہ دیواریں، روتے بچے، بوڑھی آنکھیں
شاید اِس گھر پر بھی اترا ہے، عذاب سنہرے موسم کاپھر آج معطر دل ہو گا، پھر آج دریچہ مہکے گا
جاتے جاتے رکھ جائے گا وہ گلاب سنہرے موسم کا

محمد بلال اعظم

Share: