تیری آنکھوں میں سجے خواب کی تعبیر ہیں ہم
تُو ہے فردوس کی صورت، تری تنویر ہیں ہم
رگِ دوراں میں جھلکتی ہوئی تصویر ہیں ہم
تیرے دشمن کے لئے صورتِ شمشیر ہیں ہم
خطۂ پاک ہم اب بھی ترا دم بھرتے ہیں
اور ترے نام پہ قربان اب و جد کرتے ہیںتیرے احباب سلامت، ترے اغیار کی خیر
تیرے اشجار کی، گلزار کی، بازار کی خیر
دشت کی، کوہ و دمن، وادی و کہسار کی خیر
تازہ افکار کی، افکار کے معیار کی خیر
ہم کہ ہر لحظہ ترے حق میں دعا کرتے ہیں
کب ترا ذکر بھلا خود سے جدا کرتے ہیںتیرے افکار جواں، سوچ نئی، ساز نیا
میرے معبود نے بخشا تجھے اعجاز نیا
ہر بدلتی ہوئی رُت میں ترا انداز نیا
انتہا سب سے جدا تیری تو آغاز نیا
تُو زمانے میں محبت کا نشاں رکھتا ہے
اس قدر دھوپ میں بھی ابرِ رواں رکھتا ہے“دوستو آؤ کہ تجدیدِ وفا کا دن ہے”
آؤ! ہم موسمِ خوشبو کی گرہ کھولتے ہیں
میرے بے باک دلیروں کی شجاعت کو سلام
جو رگِ جاں میں شعاعوں کے عَلم گھولتے ہیں
تا قیامت ترا پرچم ہو سر افراز و بلند
تیرے عشاق سرِ نوکِ سناں بولتے ہیںدوستو! آؤ کہ پھر عہدِ وفا کرتے ہیں
تیری عظمت پہ کبھی آنچ نہ آنے دیں گے
تیری راہوں میں جلائیں گے ہم آنکھوں کے  چراغ
تیری گلنار فضاؤں کو جلا بخشیں گے
ہم ترے خوابوں کو تعبیر جدا بخشیں گے

محمد بلال اعظم

Share: