ہو جائے کسی طور جو تکمیلِ تمنا
لہجوں میں اتر آئے گی تفضیلِ تمناسنتا رہا تاویلِ جفا اُس کی زباں سے
بہتا رہا آنکھوں سے مری نیلِ تمنااُس صورتِ مریم کو سرِ بام جو دیکھا
سینے میں اتر آئی اک انجیلِ تمناایسا بُتِ کافر ہے کہ دیکھا نہیں مڑ کر
ہر چند کہ ہوتی رہی تعلیلِ تمنامدھم ہوئی آنکھوں میں تو پھر دل میں جلا لی
پر بجھنے نہیں دی کبھی قندیلِ تمنااُس عہدِ اذیت میں اتارا گیا مجھ کو
جس عہد میں ہوتی رہی تذلیلِ تمنا“آ جائے مقابل جو کبھی ابرہا کوئی
چھُوٹے نہ بلال اپنی ابابیلِ تمنا”

٭مقطع جناب ندیم مراد صاحب (جنوبی افریقہ) کی عنایت ہے۔

محمد بلال اعظم

Share: