نوٹ: یہ مضمون بنیادی طور پر ہم سب کے لئے لکھا گیا۔

جولائی کا مہینہ میرے لئے کئی برسوں سے اہم رہا ہے کہ اِسی مہینے میں “اردو محفل” اپنی سالگرہ مناتی ہے۔ اِس برس اِس میں ایک اور اضافہ ہو گیا کہ آج  بروز اکیس جولائی “حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال” اپنی پہلی سالگرہ منا رہا ہے۔ سن 2019ء کے یہی شب و روز تھے۔ کام و دہن کی مصروفیات بھی ساتھ ساتھ تھیں اور ادب سے لگاؤ بھی ایک ٹک چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ ساہیوال کی ادبی فضا میں ایک نئی ہوا کا جھونکا لانے کی غرض سے کچھ دوستوں کی معیت میں ، ڈاکٹر افتخار شفیع اور پروفیسر عدنان بشیر کی رہنمائی کے ساتھ حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال کا قیام عمل میں لایا گیا۔ حلقہ کے لئے پہلا سال کیسا رہا؟ یہ ندیم صادق صاحب کی اِس تحریر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ حلقہ کا بنیادی مقصد تنقیدی نشستوں کی روایت کو نیا رخ دینا اور ایک تسلسل قائم رکھنا تھا۔ حلقہ اِس سلسلے میں کتنا موثر رہا، یہ فیصلہ آنے والے وقت پہ چھوڑتے ہیں۔ فی الوقت اِس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ میں نے حلقہ اربابِ ذوق میں کیوں شمولیت اختیار کی؟ میں حلقہ اربابِ ذوق سے آنے والے عرصے میں کیا چاہتا ہوں؟ 

اِسے روایت سے انحراف کہا جا سکتا ہے لیکن پہلے دن سے میری نظر میں حلقہ کا بنیادی مقصد صرف تنقیدی نشستیں اور مشاعرے منعقد کروانا نہیں تھا بلکہ اولین ترجیح اردو زبان کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ موجودہ دور کے تقاضوں سے میری مراد زبان و بیان کے نت نئے تجربات، جدید موضوعات کا شاعری و نثر میں استعمال، نئی اقسام کا تعارف وغیرہ ہرگز نہیں ہے۔ میں حلقہ اربابِ ذوق کو ایک “تنظیم” سے زیادہ ایک “ادارہ” کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں۔ ایک ایسا ادارہ جو “جدید دور کے تقاضوں”  سے ہم آہنگ ہو، جس کا کام اردو حلقوں میں اپنی نوعیت کا منفرد ہو، اُس میں نیا پن ہو، جس کی بدولت اردو زبان اور ساہیوال شہر کو دہائیوں بعد بھی دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں ایک نئی، جدید اور توانا نظر سے دیکھا جائے۔

اِس بات کی تفصیلی وضاحت کے لئے ماضی میں چلتے ہیں۔ یہ بات آٹھ سال پہلے کی ہے۔ ایف ایس سی کے دن تھے۔ ربِ سحر کی رحمت کے جناب احمد سعید مرزا صاحب اور جناب رشید الظفر صاحب کی بدولت ایسے اساتذہ میسر آئے، جنہوں نے ادب سے تعلق ٹوٹنے نہیں دیا۔  بیس فروری 2012ء کو مَیں نے ایک فورم میں شمولیت اختیار کی تھی، جو مشہورِ زمانہ “اردو ویب” کا ایک ذیلی پراجیکٹ “اردو محفل” تھا۔ اردو ویب کا قیام 2005ء میں بسلسلۂ روزگار و تعلیم امریکہ و یورپ میں مقیم کچھ ہندوستانی و پاکستانی نوجوانوں کے ہاتھوں ہوا جن کا مقصد ایک ہی تھا کہ گلوبل ویلج کے اِس دور میں ارد زبان کی ترویج کی جائے، اِس سفر کونئی منزلوں سے روشناس کروایا جائے۔

 پچھلے پندرہ برسوں میں اردو ویب نے ڈیجیٹل اردو کے تصور کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ آج اگر ہم اتنی آسانی سے موبائل، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ پہ اردو لکھ لیتے ہیں، پاک اردو انسٹالر موجود ہے، بے شمار اردو ویب سائٹس نظر آتی ہیں، رنگا رنگ فونٹس کا ذخیرہ مل جاتا ہے غرضیکہ اردو انٹرنیٹ پہ اجنبی نہیں لگتی تو یہ اردو ویب کے کاروان سے جڑے بے شمار مخلص اور بے لوث لوگوں کی بدولت ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر میں کچھ چیدہ چیدہ پراجیکٹس کا ذکر کرتا ہوں:اردو محفل، جمیل خط نما فونٹ سرور،اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری،بزم اردو،اردو انسائکلوپیڈیا،عروض وغیرہ۔  اردو ویب کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر کل “املا نامہ” کی رونمائی کی گئی ہے ۔ اردو زبان میں کاپی رائیٹ فری کتابوں کا جتنا بڑا ذخیرہ یونی کوڈ میں اردو محفل نے ترتیب دیا ہے، اُس کی نظیر نہیں ملتی۔ اِس کا سہرا جناب اعجاز عبید صاحب (بابا جانی) کی پُر خلوص محنت اور اردو ویب کی لائبریری ٹیم کو جاتا ہے۔ راقم کو فخر ہے کہ وہ خود بھی اِس ٹیم کا حصہ ہے (گو کہ تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے ایک طویل عرصہ سے اِس ذمہ داری سے  کنارہ کش ہوں)۔ لیکن ابھی بھی بہت کچھ باقی ہے۔ اردو ویب کے بانیان میں سے ایک، جناب نبیل بھائی کے الفاظ بعینہٖ نقل کر رہا ہوں:

“اردو محفل فورم سیٹ کے قیام کی وقت جن مقاصد کے حصول کی کوشش کی گئی تھی، انہیں بڑی حد تک حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس زمانے میں جن کاوشوں کو حیران کن کارنامہ سمجھا جاتا تھا، اب انہیں معمول کی باتیں شمار ہوتی ہیں۔ ویب صفحات اور دوسری اپلیکیشنز میں اردو لکھنا اب راکٹ سائنس نہیں رہا ہے۔ نستعلیق فونٹ میں متن دیکھ کر اب ہر رگ خوں میں چراغاں بھی نہیں ہوتا۔ کمپیوٹر پر اردو لکھنا تو دور کی بات، اب اردو املا کروانا بھی ممکن ہو گیا ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اب اردو کمپیوٹنگ کے میدان میں چیلنج باقی نہیں رہا ہے، بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اب اردو کمپیوٹنگ کے میدان میں تحقیق کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ آج کا دور مشین لرننگ اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کا ہے اور اس کے چیلنج بھی اسی اعتبار سے بڑے ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اردو کمپیوٹنگ کے میدان میں تحقیق کرنے والوں سے رابطہ کیا جائے اور انہیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے۔” 

چلئے ماضی سے نکلتے ہیں اور حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال کا ذکر کرتے ہیں۔ آنے والا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور مغربی اقوام اور اُن کے ادبی حلقے اپنی زبانوں کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کے لئے نت نئے منصوبے ترتیب دے رہی ہیں۔اس کی ایک عمدہ مثال سائنس ٹیکنالوجی انجیئنرنگ میتھ  سے سائنس ٹیکنالوجی انجینئرنگ “آرٹ” میتھ تک کا سفر ہے۔ ہمارے ہاں ادب تخلیق ہو رہا ہے، مسلسل ہو رہا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ مقدار میں ہو رہا ہے لیکن راقم کی رائے میں ادب کی تخلیق ایک مختلف کام ہے اور نئی دنیا کے تقاضے ایک نئی ڈائی مینشن ہیں، ایک مختلف سمت ہے۔ کوشش کرتا ہوں کہ کچھ مثالوں سے اپنی بات کی وضاحت کر سکوں۔ 

ہمارے ہاں بہت زور دیا جاتا ہے کہ اردو میں تعلیم ہونی چاہیے، اردو کا نفاذ ہونا چاہیے۔ لیکن کیا ہم نے اردو میں صرف تاریخ، سماجی سائنس، مذہب اور اخلاقیات کے مضامین پڑھانے ہیں؟ کیا یہ تعلیم صرف میٹرک تک دی جائے گی؟ اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو  ہیں تو کیا ہمارے پاس عالمی معیار کا نصاب موجود ہے؟ کیا ہم یونیورسٹی کی سطح پر اردو میں تعلیمی نصاب لاگو کر سکتے ہیں؟ کیا ہمارے پاس دستیاب وسائل ہیں؟ وسائل سے مراد فی الوقت صرف نصاب ہے۔ اِس وقت دنیا کو سماجی سائنس سے زیادہ قدرتی سائنس کی ضرورت ہے۔ کیا ہمارے پاس اُس کا نصاب موجود ہے؟ کیا نصاب لکھنے کی صلاحیت موجود ہے؟ پاکستان اور ہندوستان میں سائنسی اصطلاحات کی لغات اور فرہنگ دہائیوں سے موجود ہیں لیکن ہم نے پچھلی چند دہائیوں میں اور بطورِ خاص اکیسویں صدی میں کتنا سائنسی اور نصابی مواد اردو میں ترجمہ کیا اور وہ لغات و فرہنگ کس حد تک سود مند رہیں؟ میں ایک بار دوبارہ وضاحت کر دوں کہ اُن لغات اور فرہنگ کے معیار پہ بات نہیں کر رہا وہ یقیناً عرق ریزی سے مرتب کی گئی ہیں لیکن خام مال سے ضرورت کی چیزیں بنانا ایک مختلف عمل ہے۔ یہی صورتحال نصاب کے ساتھ ہے۔ کیا اُس مواد کی بنیاد پر باقاعدہ یونیورسٹی کے درجے کی کتب لکھنے اور دیگر سائنسی کتب کے تراجم کرنے کی باقاعدہ اور مسلسل کوشش کسی ادبی تنظیم اور اُس سے متعلقہ افراد نے کی؟ کسی نے تسلسل سے مہم چلائی؟ یقیناً اِس کا جواب نفی میں ہو گا کہ بصورتِ دیگر ایسی کتب یقیناً میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی درسی کتب میں بطور حواشی موجود ہوتیں لیکن وہاں صرف مغربی کتابوں کا ذکر موجود ہوتا ہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں بڑے بڑے نام ور تخلیق کار پاکستان کی پہچان بنے لیکن ماسوائے شہزاد احمد (مرحوم) کے سائنسی تراجم کی باقاعدہ اور سنجیدہ کوشش کسی جانب سے سامنے نہیں آ سکی کہ جس سے اردو زبان میں نئے دور کے تقاضوں کے مطابق وسعت پیدا ہو سکتی، اردو زبان کو مغربی اور مشرق کی دیگر بڑی زبانوں کے مقابلے میں ایک نئی شناخت مل سکتی۔ شہزاد احمد کے دور میں اور اُن کے بعد کئی لوگوں نے اِس کام کو آگے بڑھایا، اچھے تراجم بھی ہوئے، یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے اردو زبان  کو صحافت کے میدان میں بے شمار نیا سائنسی مواد مہیا کیا لیکن میرے علم میں نہیں کہ کسی ادبی تنظیم نے باقاعدہ سرپرستی کی ہو۔ ایک سنجیدہ کوشش شہزاد احمد کے بعد ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے دور میں کی گئی، جب وہ اردو سائنس بورڈ کے سربراہ مقرر ہوئے۔ یہاں ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ ہمارے سائنس کے اساتذہ بھی برابر کے قصور وار ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ اور بھرپور کوشش ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے کی جنہوں نے نہ صرف سائنسی تراجم کئے بلکہ پی ٹی وی پر اردو میں اس سلسلے میں باقاعدہ طویل المدتی پروگرام بھی کئے۔ موجودہ دور میں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کے علاوہ ایک باقاعدہ کام ڈاکٹر خالد خان (الیکٹریکل انجینئر) کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔ راقم خود اِس پراجیکٹ سے منسلک ہے اور ایسے سائنسدانوں کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو ادیبوں کے حصے کا کام بھی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالدپیشہ کے اعتبار سے الیکٹریکل انجینئر ہیں اور جامعہ کامسیٹس، اسلام آباد میں معلم ہیں۔  طبیعیات، ریاضی اور الیکٹریکل انجینئرنگ کی متعدد کتابوں کا ترجمہ کر چکے ہیں۔

انگریزی اور دیگر مغربی زبانیں بہت تیزی سے جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے خود کو جدید خطوط پہ استوار کر رہی ہیں۔ جدید خطوط سے مراد ایسے پراجیکٹس کا انعقاد ہے، جو بدلتی دنیا کے ساتھ زبان کو ڈھالنے میں مدد دے سکیں۔ اِس سے نہ صرف زبان کا ذخیرۂ الفاظ بڑھتا ہے بلکہ اُس کی خود کو منوانے کی صلاحیت میں بھی دوگانہ اضافہ ہوتا ہے۔ اِس ضمن میں حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال کی مجلسِ عاملہ میں ہونے کی حیثیت سے میں کچھ گزارشات بطور مثال چیدہ چیدہ نکات کی صورت پیش کرتا ہوں:

١. انیسویں صدی میں کوانٹم میکانیات اور عمومی و خصوصی اضافیت کے نظریہ نے سائنس کی اہمیت کو فلسفہ پر کئی درجہ فوقیت دے دی۔ آج مغرب میں نثر و نظم کی بیشتر کتابیں ایسے موضوعات کا نہ صرف احاطہ کرتی ہیں بلکہ گزشتہ ادوار میں لکھی گئی چیزوں کی نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بطور خاص کوانٹم میکانیات و اضافیت  کی بنیاد پر تشریح و توضیح میں بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالتی ہیں۔

 ٢. کمپیوٹر کی زبانوں یعنی پروگرامنگ لینگوئجز  کا اردو زبان میں تحقیق کے لئے استعمال کیا جائے۔ لاہور یونی ورسٹی آف میجنمینٹ سائنسز  (لمز)  میں میرے ایک دوست نے (جس کی بنیادی ڈگری بزنس میں ہے)  ایک سمسٹر پراجیکٹ کے دوران آر اور پائتھون پروگرامنگ زبانوں کو استعمال کر کے نئی نسل کے کچھ ادیبوں کی کتابوں میں انسانی رجحانات کا مطالعہ کیا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد ریسرچ تھی جو بی ایس کے لیول پر کی گئی۔

٣. نئے سافٹ وئیرز کے لئے اردو تراجم مہیا کئے جا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

٤. صوتی لائبریری بنانے کی جانب سوچا جا سکتا ہے کہ جس طرح بول کے انگریزی لکھ سکتے ہیں، اردو بھی لکھی جائے۔

٥. اِن پیج کا استعمال کم سے کم کرنا کہ وہ مواد کو گوگل سرچ انڈیکس میں شامل نہیں کرتا۔

٦. اِن پیج کی جگہ مائیکرو سافٹ ورڈ کا زیادہ استعمال کیا جائے۔

٧. کتب لکھنے کے لئے مائیکرو سافٹ ورڈ کی جگہ لاٹیک کا استعمال کے بارے بھی سوچا جا سکتا ہے بطورِ خاص درسی کتب کے لئے اُس سے بہترین ٹائپ سیٹنگ سافٹ وئیر کوئی دستیاب نہیں۔

٨. سائیکالوجی اور دیگر علوم کے رجحانات کا ادبی تنقید و تحقیق میں کمپیوٹر پروگرامنگ کا استعمال۔

٩. سرقے کو پکڑنے کے لئے “ٹرن اٹ ان” میں اردو اسپورٹ بارے سوچنا لیکن اِس کے لئے سب سے ضروری چیز آرکائیو کی طرز پر ایک ریپو زیٹری کا قیام ہے (راقم کو علم نہیں کہ ہائیر ایجو کیشن کمیشن اس سلسلے میں متحرک ہے یا نہیں مگر راقم کے ذاتی خیال میں یقیناً ایسا ہو گا) فی الوقت اِس نکتے سے راقم کا مقصد ٹرن اِٹ اِن یا آرکائیو کی طرز پر ایسی ریپوزیٹریز کا قیام ہے جو ہر انسان کی دسترس میں ہوں۔

اِن کے علاوہ اور بہت سے منصوبے ہیں، جن پہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو ویب اور ڈاکٹر خالد خان اِس وقت بھی اِن میں سے کئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں لیکن جتنی زیادہ افرادی و ذہنی قوت میسر آئے، اُتنا زیادہ اچھا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ آئندہ برس حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال اِس سلسلے میں عملی اقدام کرے گا۔ اِن میں سے کوئی بھی نکتہ ایک دو نشستوں میں سمٹنے والا نہیں۔ اِس سلسلے میں ٹھوس لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ کسی بھی کام کوکرنے کا مقصد میرے نزدیک یہ ہے کہ آیا وہ صرف خانہ پُری ہے یا یہ عملی معنوں میں آنے والی نسلوں کے لئے ایک مفید کام ہو گا۔ میری نظر میں یہ باتیں اہمیت نہیں رکھتیں کہ یہ کام کتنا وقت لیں گے؟، اِ س سے شہرت ملے گی یا نہیں؟، کتنی پذیرائی ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ بڑے مقاصد کے سامنے ایسے چھوٹی چھوٹی باتیں اہمیت نہیں رکھتیں۔  ہمارا مقصد آنے والی نسلوں کے لئے کچھ سود مند چھوڑ کے جانا ہے۔ 

آخر میں دو باتوں کی وضاحت دوبارہ کرنا چاہ رہا ہوں:میں بالکل نہیں کہہ رہا کہ حلقہ کی عمومی نشستوں سے کنارہ کش ہوا جائے لیکن  کچھ بڑا کرنے کے لئے روایت سے انحراف ضروری ہے۔ حلقہ کی روایات اور قواعد آج سے کئی دہائیاں پہلے بنائے گئے تھے۔ ماضی اورحال کی دنیا میں ایک سو اسی درجے کا فرق ہے۔میں نے یہ گزارشات حلقہ اربابِ ذوق کی مجلسِ عاملہ کے رکن کے طور پر نہیں کیں بلکہ اردو زبان اور اُس کی نئی نسلوں کے وسیع تر مفاد میں ایک عام قاری کے طور پر کی ہیں۔تاہم مجھے امید ہے کہ حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال اِن گزارشات کو سنجیدہ لے گا اور نوک پلک سنوارنے کے بعد یہ گزارشات زیادہ بہترین شکل میں اپنی مقاصد کے حصول کے لئے گامزن ہوں گی۔

میری دعا ہے کہ

جلتا رہے دیا، جو روشن ہے 

Share: