عذاب آشنا چہرہ لئے جو پھرتا ہے
ہیں اس کے واسطے دنیا میں الفتیں بیکاربساط دل پہ جو لکھی ہو ہار قسمت میں
جنونِ عشق کی پھر ساری حالتیں بیکارغریبِ شہر ہو مفلس جو پاؤں سے سر تک
امیرِ شہر کی ساری سخاوتیں بیکارکبھی ملو تو سبھی زنگ اتار کے ملنا
محبتوں میں ہیں جاناں عداوتیں بیکارخیال و خواب کی دنیا مثال اُس سے ہے
وہ چشم ناز نہیں ہو تو نسبتیں بیکار

محمد بلال اعظم

Share: