ہے ترا ہجر مسلسل مری وحشت کے لئے
رقص کرتے ہوئے اک تازہ قیامت کے لئےتجھ کو ہارا تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
جیت کس قدر ضروری ہے محبت کے لئےاب نہ ہاتھوں کی لکیروں پہ یقیں رکھوں گا
اب نہ قسمت مجھے پائے گی ہزیمت کے لئےکتنے رنگوں میں تجھے نظم کیا ہے میں نے!
کیا نہ سوچا ہے فقط حرفِ شکایت کے لئےحسن اور عشق کی اِس معرکہ آرائی میں
لفظ بولیں گے مگر کس کی حمایت کے لئےہم کہ تجھ سے تری آنکھوں کا پتہ پوچھتے ہیں
ایک بھٹکے ہوئے آہو کی سکونت کے لئےاُس پہ یکتائی کا احساس ہے غالب ورنہ
میں بلالؔ آپ بکھر جاتا ہوں وسعت کے لئے

محمد بلال اعظم

Share: