اُن دنوں اکیڈمک بلاک کی رونقیں بحال تھیں۔ رات گئے کسی ڈی آر میں مناہل کی سالگرہ کا کیک کاٹا جا رہا تھا۔ کھڑکی سے جھانکتے تو چاند کا دودھیا ہالہ سرما کی خنکی میں ایک عجیب منظر تخلیق کر رہا تھا۔ شعر و شاعری، سُر اور موسیقی کے ساتھ ہلکے پھلکے چٹکلے بھی سنائی دے جاتے تھے۔ ایسے میں عمر اچانک میرے پاس آتا ہے: “بلال بھائی! آپ کسی دن فری ہوں گے؟ آپ کو احمد بلال صاحب سے ملوانا ہے۔ آپ کو اُن سے مل کر اچھا لگے گا۔” دن گزرتے گئے اور “نمود” کی نمود کا موسم قریب تر آتا گیا۔ سکول آف سائنس کے جھنجھٹوں میں ایسے الجھے کہ ملاقات کا موقع مل ہی نہ سکا۔ پھر ایک روز عمر کا فون آیا: “میں اکیڈمک بلاک کے باہر ہوں۔ آ جائیے۔ سر احمد بلال سے ملنا ہے۔” اُس دن صرف سرسری ملاقات کو گیا تھا لیکن کبھی واپس آ ہی نہیں سکا۔

آج ڈاکٹر احمد بلال اعوان کی دوسری برسی ہے۔ دو سال پہلے آج کا ہی دن تھا۔ ابھی سورج نے اپنی کرنوں سے دنیا کو منور کرنا شروع کیا ہی تھا کہ ایک پیغام موصول ہوا اور ہمارا چراغ بجھ گیا۔ اِن دو برسوں میں شاید کچھ بھی نہ بدلا ہو لیکن مجھ جیسے کتنے چہروں کو محسوس ہوتا ہے کہ لمز میں سر سے سائبان اٹھ گیا۔ احمد بلال صاحب تھے تو کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ صرف چھ سات مہینوں میں ہی اُن سے ایسا تعلق بنا کہ استاد شاگرد کا رشتہ کہیں پیچھے رہ گیا۔ اُن میں ایک باپ کی شفقت محسوس ہوتی تھی، ایک دوست کا چہرہ نظر آتا تھا، ایک اپنا پن تھا جو روح میں سرایت کر جائے۔ کتنی ہی ایسی مشکلات اور پریشانیاں تھیں، جو اُن سے بات کر کے دور ہو جاتی تھیں۔ جن باتوں کو دوستوں سے کرتے ہوئے ہچکچاتے، وہ احمد بلال صاحب کے سامنے خود بخود ہونٹوں سے ادا ہوتی تھیں کہ سامنے وہ انسان ہے، جو مذاق نہیں اڑائے گا، جو ڈانٹے گا نہیں، صرف رہنمائی کرے گا، حوصلہ دے گا۔

Dr. Ahmad Bilal Awan

اُن کے مزاج کے بارے میں لکھنا چاہوں تو شاید دفتر کے دفتر کم پڑ جائیں۔ میں نے اُن جیسا عاجز، متحمل، بُردباد، صاف گو، سادہ دل، صوفی منش، اخلاق میں ارفع و اعلیٰ  اِنسان نہیں دیکھا۔ وہ اُن چند لوگوں میں سے تھے جو شاگردوں کو اپنے بیٹوں کے برابر چاہتے تھے۔ جو گلی سے گزرنے والےکسی عام مزدور کو اپنے بھائی کے برابر درجہ دیتا ہے۔ اختلاف اُن کی فطرت میں تھا ہی نہیں۔ بڑوں کا ادب ہم نے اُن سے سیکھا ہے۔ لہجے کی نرمی اور الفاظ کی شائستگی کیا ہوتی ہے، یہ اُنہوں نے صرف سکھایا نہیں، اپنے عمل سے کر کے دکھایا۔

میری زندگی میں تین اساتذہ کا کردار سب سے زیادہ رہا ہے: عمران جعفر صاحب، ڈاکٹر مقبول احمد اور ڈاکٹر احمد بلال اعوان۔ تینوں سے تعلق مختلف نوعیت کا رہا، تینوں کی طبیعت اور مضامین مختلف مگر اپنائیت اور اخلاص تینوں کا مشترکہ اثاثہ۔

ساہیوال آنے سے تین چار دن پہلے سر سے ملاقات ہوئی۔ اگلے روز احمد بلال صاحب کا فون آیا: “بلال! آ جاؤ۔ چائے پیتے ہیں اور “نمود” کو بھی ڈسکس کر لیتے ہیں۔” نمود کا معاملہ تو خیر میں نے اُنہیں ای میل کرنے کا کہہ دیا اور چائے کو ساہیوال سے واپسی پر ٹال دیا۔ آج تک خود کو اِس بات پہ کوستا ہوں کہ اُس چائے کا موقع کبھی نہیں مل سکے گا۔ وہ دن کبھی نہیں آئے گا کہ دودو ایک ایک (٢٢١١) پر فون کریں تو سر کی آواز سننے کو ملے۔ اُن کے کمرے کے باہر جائیں تو دروازہ کھٹکھٹانے کی نوبت نہ آئے اور وہ نام پکار لیں۔

L to R: Dr. Syed Sohail Hussain Naqvi (Ex-VC LUMS), Dr. Ahmad Bilal Awan, Dr. Moeen-ud-Din Nizami

بارش ہوتی تھی تو وہ اپنے کمرے سے باہر آ جاتے تھے۔ چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے برستی کرنوں کو دیکھتے رہیں گے اور مسکراتے رہیں گے۔ ایسے ہی کسی روز بارش کی بوندیں اکیڈمک بلاک میں گر رہی ہیں۔ مٹی کی مہک، پھولوں کی خوشبو سے ملی تو موضوع بدل گیا: “میں اگلے سمسٹر میں اردو شاعری میں ماحولیات کے موضوع پہ لکھی گئی نظموں کا جائزہ پڑھا رہا ہوں۔ آپ وہ کورس آڈٹ کر لیں۔” اُن سے وعدہ کر لیا لیکن۔۔۔ کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں۔۔۔

اِن دو سالوں میں کتنے ہی ایسے دن آئے کہ اُس دفتر کے باہر کھڑا رہا۔ کئی آوازیں دیں۔ شیشے کے پار بھی جھانکا۔ سماعت اِس انتظار میں تھی کہ اُن کی آواز آئے گی: “آ جائیں بلال” اور آنکھیں منتظر کہ کب وہ چہرہ نظر آئے۔ آنکھیں اُن کا سراپا تلاش کر رہی تھیں کہ بانس کی تیلیوں سے بنی چِق کے پیچھے سے وہ اُٹھیں گے، شیشے پہ اُن کا دھندلا عکس دکھائی دے گا، دروازہ کھلے گا اور شفقت سے گلے لگائیں گے، محبت سے حال پوچھیں گے۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا۔ جب بھی بارش ہوتی، چائے کا کپ لے کر اُن کے دفتر کے باہر کھڑے ہو کر برستی کرنوں کو دیکھنا اور انتظار کرنا کہ جیسے وہ ابھی اپنے کمرے سے باہر آئیں گے اور باتیں کریں گے۔ لمز میں ایم ایس کا مقالہ لکھا تو اُن کے نام کیا۔ کانوو کیشن کا دن آیا تو اُن کی آواز سننے کو، اُن کا چہرہ دیکھنے کو ترس گیا۔ بہانے بہانے سے اکیڈمک بلاک جانا کہ شاید وہ بیٹھے ہوں۔ لمز کو چھوڑے ایک سال ہوا لیکن کبھی جانا ہو تو داخل ہوتے ساتھ نظریں بے اختیار اکیڈمک بلاک کی طرف اٹھ جاتی ہیں کہ یہاں ہمارے “احمد بلال صاحب” ہوتے ہیں۔۔۔ اِس دل کے دریدہ دامن کو دیکھیں تو سہی۔۔۔

Dedication of MS Physics Thesis to Dr. Ahmad Bilal Awan

Dr. Ahmad Bilal Awan with Dr. Moeen-ud-Din Nizami

وہ کبھی نہیں آئے لیکن اُن کی خوشبو کبھی اُس جگہ سے نہیں گئی۔ اُن کی شبیہ کبھی ذہنوں سے محو نہیں ہو سکی، اُن کی آواز کبھی ماند نہیں پڑی، اُن سے تعلق کم نہیں ہوا۔ وہ جا بھی چکے ہیں لیکن اُن کی موجودگی کا احساس برقرار ہے،اُن کی مسکراہٹ باقی ہے۔ آنکھیں بند کریں، اُن کا نام لیں، وہ سامنے آ جاتے ہیں۔ اُن سے کچھ پوچھیں، وہ جواب دیتے ہیں۔ مادی وجود کہیں تحلیل ہو بھی جائے تو کیا، اُن کے ہونے کا احساس اُس سے کہیں بڑھ کر ہے۔

جو روشنی ہے دلوں میں، عطا تمھاری ہے
چراغ تم سا نہیں، تم چراغ جیسے تھے

دعا ہے کہ ربِ سحر اُنہیں اپنے عرش کے سائے میں رکھے۔ اُن پہ اپنی رحمتیں نازل کرے۔ آمین!

نوٹ: مجھے نہیں معلوم کہ یہ تصاویر اور ویڈیو کس کس نے بنائی اِس لئے کاپی رائیٹس کے تحت نام نہیں لکھ سکتا لیکن جہاں جہاں سے ملیں میں جمع کرتا گیا۔ راقم کے خیال میں آخر میں لکھا گیا شعر جناب عطا تراب کا ہے، تاہم اِس بارے میں حتمی طور پر معلوم نہیں۔ اصل میں معمولی تحریف کی گئی ہے، دوسرے مصرع کا آخری لفظ “ہو” ہے، جسے “تھے” کیا گیا ہے۔

محمد بلال اعظم

Share: