“بیقراری سی بیقراری ہے”
آج کل کیسی سوگواری ہےہو کسی اور کا گزر کیسے
دل کی دنیا فقط تمہاری ہے**شاید اب کوئی کام بن جائے
دل کی دنیا سے استواری ہےآج تو چاند بھی نہیں نکلا
آج کی رات کتنی بھاری ہے***آج بھی میں تڑپ رہا ہوں مگر
آج بھی تم سے میری یاری ہےمعرکہ عقل و دل کا جب بھی ہوا
عقل ہر بار دل سے ہاری ہےکہنے کو چند سانس ہیں لیکن
زندگی بھر کی قرض داری ہے

٭نذرِ جون ایلیا

**،***قرینِ قیاس ہے کہ توارد ہے یہاں اور یہ مصرعے سلیم کوثر صاحب کے ہیں۔ احباب سے نشاندہی کی درخواست ہے تاکہ انہیں واوین میں لکھا جا سکے۔

محمد بلال اعظم

Share: