دل بھٹکتا ہی رہا خوابوں میں کیا جانے کہاں
میں مگر آج بھی اوقات سے باہر نہ گیاقوم تو پہنچی ستاروں پہ ترقی کر کے
اور تُو پچھلی خرافات سے باہر نہ گیادودھ کی نہر وہی، میرؔ کے اشعار وہی
میں محبت میں روایات سے باہر نہ گیامیکدے کی سبھی اقدار بھی پامال ہوئیں
رند آئینِ خرابات سے باہر نہ گیا

محمد بلال اعظم

Share: