پھر وہی صبح کہ جس صبح نے مانگا آ کر
تنِ مجروح سے صد چاک لبادے کا خراج
پھر وہی شام کہ جس شام کے دامن میں سجی
میرے لفظوں کی اداسی، میری آنکھوں کا مزاجپھر وہی رنگ کہ جس رنگ سے اوراقِ حیات
جب لہو رنگ ہوئے، آنکھ بھی کھل کر برسی
پھر وہی ابرِ عداوت کی گھٹا، ربِ دعا!
کیوں مرے دیس کے بچوں پہ ہی اکثر برسیمیرے بچوں کی شہادت یہ گواہی دے گی
ہم نے شہ رگ کا لہو دے کے نکھاریں ہیں نجوم
میرے بچوں کی شہادت نے یہ پیغام دیا
تازہ تر ہم سے ہوئیں آج شجاعت کی رسومپھر مرے دیس پہ اترا ہے یہ پرنم موسم
در و دیوار پہ صدیوں کی تھکن طاری ہے
عرصۂ ظلم کی ساعت کو تو صدیاں بیتیں
دھوپ کے دشت میں وحشت کا سفر جاری ہےمیں نے دیکھے ہیں کئی شمس و قمر آبلہ پا
میری آنکھوں نے سمیٹا ہے دھواں خوابوں کا
میرے بچوں کے وہ بکھرے ہوئے لاشے چننے
قافلہ اترا مرے شہر پہ مہتابوں کاحوصلہ لاؤں کہاں سے کہ وہ مائیں دیکھوں
درد اتنا ہے کہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا ہوں
آنچ اتنی ہے کہ یخ بستہ نفس بھی پگھلا
لفظ ایسے ہیں کہ میں سہہ بھی نہیں سکتا ہوںشامِ وحشت کی طوالت سے بھی خوف آتا ہے
اب قلم، کاپی، کتابوں سے بھی ڈر لگتا ہے
میں نے قبروں کی رداؤں پہ بھی دیکھا ہے انہیں
ماں! مجھے سرخ گلابوں سے بھی ڈر لگتا ہے 

٭آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید طلباء کے نام

محمد بلال اعظم

Share: