چراغ لے کے نکلنا یا شب بسر کرنا
جو راس آئے، وہی کام عمر بھر کرنامرے غنیم! یہی میرے حق میں بہتر ہے
حروفِ آگہی لاؤں تو دربدر کرنافراتِ تشنہ لبی تیرے در پہ آئے گا
حریمِ شوق کا سامان مختصر کرناہوا کو گردِ سفر کا ملال پہنا کر
جبینِ دشت کو اشکوں سے بارور کرنامری متاع ہے پیراہنِ وصال مرا
مری متاع مرے بعد معتبر کرنامسافتِ شبِ ظلمت میں جگنوؤں کی طرح
حریمِ ذات میں شعلہ فشاں سحر کرناریاضتوں کی طلب ہے نہ مال و زر چاہوں
بس اک نگاہِ کرم میرے حال پر کرنا

محمد بلال اعظم

Share: