چاند نکلا شبِ رفتہ، نہ ستارے نکلے
جو بھی نکلے، وہ ترے درد کے مارے نکلے
 
جتنی غزلیں بھی لکھیں، باس تمہاری آئی
جتنے اشعار کہے، عکس تمہارے نکلے
 
جانے اب کون سے لہجے میں دعا دوں اُن کو
وہ جو خوشبو کے سفر پر مرے پیارے نکلے
 
اب کے میں گردشِ ایام میں ایسا آیا
پاؤں زینے پہ رکھا تھا کہ شرارے نکلے
 
وہ ترا دل کہ صنم خانۂ آذر جیسا
اُس میں نکلے بھی تو بس خواب ہمارے نکلے

محمد بلال اعظم

Share: